Wednesday, April 29, 2020

کچھ ایسی بری عادات جو کہ رمضان میں آسانی سے چھوڑی جاسکتی ہیں

رمضان" کے مہینے کو بہت سارے حوالوں سے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اس مہینے کی سب "سے خاص بات یہ ہے کہ اس مہینے میں قرآن پاک کا نزول ہوا اور اس کے ساتھ اس ماہ مبارک کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کیے گئے- اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے اجر کو اپنی ذات سے موسوم کر دیا اور تمام روزے داروں سے یہ وعدہ فرما لیا کہ اس مہینے کا اجر اللہ تعالیٰ خود دیں گے ۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی اعتبار کے ساتھ ساتھ جسمانی اعتبار سے بھی بہت بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مہینے انسان اپنی تربیت کے ذریعے بہت ساری برائیوں اور بری عادات سے خود کو بچا سکتا ہے اور ایک نئے انسان کے طور پر جنم لے سکتا ہے- کچھ ایسی بری عادات جو اس مہینے کی برکت سے ختم کی جا سکتی ہیں آج ہم آپ کو بتائيں گے-

1: زيادہ کھانے کی عادت
عام طور پر ہم میں سے بہت سارے افراد ایسا محسوس کرتے ہیں کہ ان کو اس دنیا میں کھانے کے لیے ہی بھیجا گیا ہے اور وہ اتنا کھانا کھا لیتے ہیں کہ ان کے لیے سانس لینا بھی دو بھر ہو جاتا ہے- مگر اپنی اس عادت کو ہم رمضان میں بہت اچھے طریقے سے بہتر بنا سکتے ہیں اور صرف سحر و افطار کے اوقات میں صرف اتنا کھانا کھا کر جس سے زںدہ رہا جا سکے زيادہ کھانے کی عادت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے-













2: تمباکو نوشی اور چائے
عام طور پر انسان کام کے دوران یا پھر روزمرہ کے اوقات میں بار بار چائے پیتے ہیں یا تمباکو نوشی کرتے ہیں اور جب ان کو ان عادات کو چھوڑ دینے کا کہا جاتا ہے تو ان کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ نہیں چھوڑ سکتے اس کے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے یا پھر سر میں درد شروع ہو جاتا ہے- مگر رمضان ان بری عادات کو چھوڑنے کا ایک نادر موقع ہے اس وقت روزے کی برکت سے آپ روحانی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں اور اس ایک مہینے میں اپنی ان بری عادات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے بعد تاعمر اس سے محفوظ رہنے کا عہد کر سکتے ہیں-












3: جھوٹ بولنے سے 
روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے ایک روزے دار کو اپنے روزے کا ثواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھانے پینے کے ساتھ ساتھ ان تمام باتوں سےبھی پرہیز کرے جس سے رکنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔ ان تمام معاملات میں جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جس میں مبتلا انسان بڑی بڑی برائیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے مگر روزے کے ذریعے اس ایک عادت سے جان چھڑا کر انسان خود کو بڑی بڑی برائیوں سے بچا سکتا ہے-












4: بد نظری سے
بدنظری ایک ایسا گناہ ہے جو کہ بے حیائی کی جڑ ہے اورجو لوگ اس برائی میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو روزہ ایک ڈھال کی طرح بچا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو اتنا مضبوط بنا سکتا ہے کہ وہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ جائيں-










5: غصے سے
چھوٹی چھوٹی باتوں پر اشتعال میں آنے والے لوگ عام دنوں میں اپنے غصے کے سبب نہ صرف اپنے معاملات میں نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی زبان سے بھی ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو کہ نہ صرف دوسرے کے دل دکھانے کا باعث بنتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بد گوئی کا بھی باعث بنتے ہیں- جب کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ غصہ حرام ہے تو روزے کی حالت میں انسان کے کردار کی ایسی تربیت ہو سکتی ہے جس سے وہ اپنے غصے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور رمضان کے بعد بھی اس حرام چیز سے بچ سکتا ہے -











یاد رکھیں !
رمضان صرف ایک مہینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک تربیت گاہ ہے جو کہ انسان کو جسمانی اور روحانی طور پر اتنا مضبوط کر دیتا ہے کہ جس کے ذریعے انسان نہ صرف بری عادات کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ سکتا ہے بلکہ اچھی عادات کو اپنا کر ہمیشہ کے لیۓ کامیاب ہو سکتا ہے-

Monday, April 27, 2020

خاتون کرونا وائرس سے مرنے کے بعد اچانک زندہ ہو گئی

ایکواڈور: جنوبی امریکا کے مغربی ساحل پر واقع ملک ایکواڈور میں ایک خاتون کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر مرنے کے بعد اچانک زندہ ہو گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایکواڈور کے مقامی اسپتال نے 74 سالہ خاتون البا ماروری کی کرونا وائرس کی علامات سے موت کی تصدیق کر دی تھی لیکن پھر کئی دن بعد وہ زندہ ہو گئیں۔
معلوم ہوا کہ خاتون کو ایک ماہ قبل بخار اور سانس لینے میں تکلیف کے سبب اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں وہ 3 ہفتے بے ہوشی کی حالت میں رہیں، ڈاکٹرز نے انھیں 27 مارچ کو مردہ قرار دے دیا۔
اسپتال انتظامیہ نے خاتون کے اہل خانہ کو مردہ خانے کے اندر ایک میت دکھائی، کرونا وائرس سے مرنے والوں کے قریب جانے پر پابندی کے سبب اہل خانہ نے میت کو دور سے دیکھا، خاتون کے بھانجے کا کہنا تھا کہ انھوں نے میت کو ایک میٹر دوری سے دیکھا، چہرہ نظر نہیں آیا تاہم بال اور رنگت آنٹی جیسے تھے، جسم پر ان کی طرح کا ایک زخم بھی تھا، اس کے بعد انھیں میت کو گھر لے جانے دیا گیا۔
اہل خانہ نے خاتون کی آخری رسومات ادا کیں اور ابھی راکھ گھر میں پڑی تھی جب اچانک انھیں اسپتال سے کال آئی کہ ان کی رشتہ دار خاتون البا ماروری زندہ ہیں اور اسپتال میں انھیں ہوش آ گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ چند دن قبل جمعرات کو اچانک البا کو ہوش آ گیا اور انھوں نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ وہ کون ہے، جس پر ان کی بہن کو اطلاع دی گئی۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ پتا نہیں انھوں نے کس خاتون کی آخری رسومات ادا کیں، اور گھر میں جو راکھ پڑی ہوئی ہے وہ کس کی ہے، تاہم انھوں نے اسپتال انتظامیہ پر مقدمہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ انھیں جو پریشانی اٹھانی پڑی اور آخری رسومات پر جو خرچ اٹھا، اس کا ازالہ ہو سکے۔

Wednesday, April 15, 2020

EveryThing: کورونا لاک ڈاؤن: پاکستان میں کِن کاروباروں اور صنع...

EveryThing: کورونا لاک ڈاؤن: پاکستان میں کِن کاروباروں اور صنع...: پاکستان میں لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی مزید توسیع کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ...