Tuesday, June 23, 2020

HEC Suggests a Solution to Provide Internet to Students from Remote Areas

The Higher Education Commission (HEC) has indicated that it is planning to bring back students from remote areas, that have no internet facility, to their hostels to attend online classes.

Chairman HEC, Tariq Banuri, said that the education commission has sought special permission from the federal government in this regard. If allowed, the higher education commission will facilitate a small number of students from remote areas to return to their university hostels and continue their studies under strict safety protocols.
Banuri also highlighted that they are in talks with the telecommunication companies to offer data bundles to university students at cheaper rates.
He said that the collaboration with mobile operators to provide more affordable internet access to educational resources and online classes is in the final stages.


Saturday, May 9, 2020

HEC mulls over reopening universities, colleges for exams








ISLAMABAD: Chairman Higher Education Commission (HEC) Dr. Tariq Banuri on Saturday said that universities and colleges across the country could be reopened for examinations amid coronavirus pandmeic.


HEC chairman said that they could implement the decision if situation improves by the end of the month of May 2020.
“We could seek recommendations from the experts and forward our suggestions to the government on the matter,” he said.
He, however, said that no policy is being finalized yet as they would mull over different suggestions during a meeting scheduled for upcoming Tuesday.
“We are considering some options,” he said urging students to not to lay down their arms in the fight against COVID-19 as they had to cope up with the situation jointly.

It is pertinent to mention  here that Federal Education Minister Shafqat Mehmood on Thursday announced the cancellation of all board exams across the country as part of measures to contain the spread of COVID-I9.

Speaking after the National Coordination Committee (NCC) meeting in Islamabad, he said that it has been agreed in the meeting that all educational institutions across the country will remain closed till July 15.
“All board exams have been cancelled and students of class 9th, 10th, 11, and 12 will be promoted for the next grade on the basis of results obtained in the previous class,” he added.
Giving an example, he said a student can get admission in a university on the basis of his 11th class result.
He said the decision has been taken on the consensus of all provinces and added that students will be able to enroll in the next class as soon as the school reopens.

Monday, May 4, 2020

گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں #Corona

Almost pakistan is covered by COVID-19:


The red portion is Corona Virus Affected areas













Social Distance In Mosques:


















Social Distance at Utitity strore:













Social Distance at public places:





Spreading Sprays in Homes, Mosques and Public places:




Wednesday, April 29, 2020

کچھ ایسی بری عادات جو کہ رمضان میں آسانی سے چھوڑی جاسکتی ہیں

رمضان" کے مہینے کو بہت سارے حوالوں سے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے اس مہینے کی سب "سے خاص بات یہ ہے کہ اس مہینے میں قرآن پاک کا نزول ہوا اور اس کے ساتھ اس ماہ مبارک کے روزے تمام مسلمانوں پر فرض کیے گئے- اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے اجر کو اپنی ذات سے موسوم کر دیا اور تمام روزے داروں سے یہ وعدہ فرما لیا کہ اس مہینے کا اجر اللہ تعالیٰ خود دیں گے ۔ یہ مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی اعتبار کے ساتھ ساتھ جسمانی اعتبار سے بھی بہت بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس مہینے انسان اپنی تربیت کے ذریعے بہت ساری برائیوں اور بری عادات سے خود کو بچا سکتا ہے اور ایک نئے انسان کے طور پر جنم لے سکتا ہے- کچھ ایسی بری عادات جو اس مہینے کی برکت سے ختم کی جا سکتی ہیں آج ہم آپ کو بتائيں گے-

1: زيادہ کھانے کی عادت
عام طور پر ہم میں سے بہت سارے افراد ایسا محسوس کرتے ہیں کہ ان کو اس دنیا میں کھانے کے لیے ہی بھیجا گیا ہے اور وہ اتنا کھانا کھا لیتے ہیں کہ ان کے لیے سانس لینا بھی دو بھر ہو جاتا ہے- مگر اپنی اس عادت کو ہم رمضان میں بہت اچھے طریقے سے بہتر بنا سکتے ہیں اور صرف سحر و افطار کے اوقات میں صرف اتنا کھانا کھا کر جس سے زںدہ رہا جا سکے زيادہ کھانے کی عادت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے-













2: تمباکو نوشی اور چائے
عام طور پر انسان کام کے دوران یا پھر روزمرہ کے اوقات میں بار بار چائے پیتے ہیں یا تمباکو نوشی کرتے ہیں اور جب ان کو ان عادات کو چھوڑ دینے کا کہا جاتا ہے تو ان کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ نہیں چھوڑ سکتے اس کے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا ہے یا پھر سر میں درد شروع ہو جاتا ہے- مگر رمضان ان بری عادات کو چھوڑنے کا ایک نادر موقع ہے اس وقت روزے کی برکت سے آپ روحانی طور پر مضبوط ہو گئے ہیں اور اس ایک مہینے میں اپنی ان بری عادات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے بعد تاعمر اس سے محفوظ رہنے کا عہد کر سکتے ہیں-












3: جھوٹ بولنے سے 
روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے ایک روزے دار کو اپنے روزے کا ثواب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھانے پینے کے ساتھ ساتھ ان تمام باتوں سےبھی پرہیز کرے جس سے رکنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔ ان تمام معاملات میں جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جس میں مبتلا انسان بڑی بڑی برائیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے مگر روزے کے ذریعے اس ایک عادت سے جان چھڑا کر انسان خود کو بڑی بڑی برائیوں سے بچا سکتا ہے-












4: بد نظری سے
بدنظری ایک ایسا گناہ ہے جو کہ بے حیائی کی جڑ ہے اورجو لوگ اس برائی میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو روزہ ایک ڈھال کی طرح بچا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو اتنا مضبوط بنا سکتا ہے کہ وہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ جائيں-










5: غصے سے
چھوٹی چھوٹی باتوں پر اشتعال میں آنے والے لوگ عام دنوں میں اپنے غصے کے سبب نہ صرف اپنے معاملات میں نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کی زبان سے بھی ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو کہ نہ صرف دوسرے کے دل دکھانے کا باعث بنتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بد گوئی کا بھی باعث بنتے ہیں- جب کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ غصہ حرام ہے تو روزے کی حالت میں انسان کے کردار کی ایسی تربیت ہو سکتی ہے جس سے وہ اپنے غصے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور رمضان کے بعد بھی اس حرام چیز سے بچ سکتا ہے -











یاد رکھیں !
رمضان صرف ایک مہینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک تربیت گاہ ہے جو کہ انسان کو جسمانی اور روحانی طور پر اتنا مضبوط کر دیتا ہے کہ جس کے ذریعے انسان نہ صرف بری عادات کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ سکتا ہے بلکہ اچھی عادات کو اپنا کر ہمیشہ کے لیۓ کامیاب ہو سکتا ہے-

Monday, April 27, 2020

خاتون کرونا وائرس سے مرنے کے بعد اچانک زندہ ہو گئی

ایکواڈور: جنوبی امریکا کے مغربی ساحل پر واقع ملک ایکواڈور میں ایک خاتون کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر مرنے کے بعد اچانک زندہ ہو گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایکواڈور کے مقامی اسپتال نے 74 سالہ خاتون البا ماروری کی کرونا وائرس کی علامات سے موت کی تصدیق کر دی تھی لیکن پھر کئی دن بعد وہ زندہ ہو گئیں۔
معلوم ہوا کہ خاتون کو ایک ماہ قبل بخار اور سانس لینے میں تکلیف کے سبب اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں وہ 3 ہفتے بے ہوشی کی حالت میں رہیں، ڈاکٹرز نے انھیں 27 مارچ کو مردہ قرار دے دیا۔
اسپتال انتظامیہ نے خاتون کے اہل خانہ کو مردہ خانے کے اندر ایک میت دکھائی، کرونا وائرس سے مرنے والوں کے قریب جانے پر پابندی کے سبب اہل خانہ نے میت کو دور سے دیکھا، خاتون کے بھانجے کا کہنا تھا کہ انھوں نے میت کو ایک میٹر دوری سے دیکھا، چہرہ نظر نہیں آیا تاہم بال اور رنگت آنٹی جیسے تھے، جسم پر ان کی طرح کا ایک زخم بھی تھا، اس کے بعد انھیں میت کو گھر لے جانے دیا گیا۔
اہل خانہ نے خاتون کی آخری رسومات ادا کیں اور ابھی راکھ گھر میں پڑی تھی جب اچانک انھیں اسپتال سے کال آئی کہ ان کی رشتہ دار خاتون البا ماروری زندہ ہیں اور اسپتال میں انھیں ہوش آ گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ چند دن قبل جمعرات کو اچانک البا کو ہوش آ گیا اور انھوں نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ وہ کون ہے، جس پر ان کی بہن کو اطلاع دی گئی۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ پتا نہیں انھوں نے کس خاتون کی آخری رسومات ادا کیں، اور گھر میں جو راکھ پڑی ہوئی ہے وہ کس کی ہے، تاہم انھوں نے اسپتال انتظامیہ پر مقدمہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ انھیں جو پریشانی اٹھانی پڑی اور آخری رسومات پر جو خرچ اٹھا، اس کا ازالہ ہو سکے۔

Wednesday, April 15, 2020

EveryThing: کورونا لاک ڈاؤن: پاکستان میں کِن کاروباروں اور صنع...

EveryThing: کورونا لاک ڈاؤن: پاکستان میں کِن کاروباروں اور صنع...: پاکستان میں لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی مزید توسیع کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ...